16 December a Black day in the history of Pakistan.

16دسمبر کو پاکستان کی تاریخ میں یوم ِسیاہ کے طور پر جانا جاتا ہے اور بہت سے لوگ تو 16 دسمبر کو محض سانحہ  پشاور میں معصوم بچوں کی شہادت کی وجہ سے ہی جانتے ہوںگے ۔ہاں سانحہ پشاور بھی ایک بہت بڑا سانحہ تھا جس میں بہت سارے معصوم بچوں کو بڑے ظالمانہ طریقے سے شہید کیا گیا اور اس پر تمام لوگ بہت غمزدہ ہیں۔کچھ لوگ تو شاید یہ بھی نہ جانتے ہوںگے کہ 16دسمبر کو یوم ِسیاہ کیوں کہا جاتا ہے۔ اگر کسی نے جاننے کی کوشش کی بھی ہو تو شاید انہیں اصل حقیقت معلوم بھی نہ ہوسکی ہو۔ تو چلیئے آج میں آپکو ماضی کے کچھ صفحے پیچھے لیئے چلتا ہوں۔ ہم سب نے بچپن سے مطالعہ پاکستان کا ایک مضمون پڑھا تو ہے۔ لیکن شاید ہمیں صرف اتنا معلوم ہے کہ 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام ہوا، 1940ء میں آل انڈیا مسلم لیگ نے لاہور میں تقسیم ہند کی قرارداد پیش کی اور 14 اگست 1947ء کو پاکستان ، مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی صورت میں معرضِ وجود میں آیا۔
لیکن کیا آپکو معلوم ہے کہ برِصغیر میں کے نواب سراج الدولہ نے 1757ء میں انگریز سامراج کو لوہے کے چنے چبوادئیے تھے کیونکہ ریاست بنگال پر قبضہ کئے بغیر انگریزوں کا برصغیر پر قبضہ نا ممکن تھا۔ اگر ہم پاکستان کی بنیاد کو تاریخ میں تلاش کریں تو 1905 ء میں پاکستان کے نشانات مشرقی بنگال میں دکھائی دیتے ہیں۔ڈھاکہ مشرقی بنگال کا صدر مقام ہے۔ اور ڈھاکہ ہی میں 1906ء میں آل آنڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی اور چند برسوں میں آل انڈیا مسلم لیگ برصغیر کی دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔1940ء میں آل انڈیامسلم لیگ نے لاہور میں تقسیم ہند کے متعلق قرارداد پیش کی۔
عام انتخابات میں بنگال میں مسلمانوں کی مختص 119نشستوں میں سے 113نشستوں پر آل انڈیا مسلم لیگ کامیاب ہوئی اور یہی انتخابات پاکستان کے قیام کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتے میں اور بنگال سے مرکزی دستور ساز اسمبلی کے لیے لوگوں کا انتخاب کیا گیا تو 33 میں سے  32نشستیں مسلم لیگ کے حصے میں آئیں۔ لیاقت علی خان اور شبیر احمد عثمانی کو دستور ساز اسمبلی کا سہرا بھی بنگال کے سر ہے۔ میرے مطابق بنگالی رہنمائوں کی وجہ سے ہی پاکستان کا قیام ممکن ہوسکا ہے۔
23 مارچ  1947ء کو ایسٹ انڈیا کمپنی نے مسلم لیگ کی قرار داد کو منظور کرتے ہوئے پوچھا کہ مسلمانوں کو دو آزاد ممالک بنگال اور پاکستان میں تقسیم کر دیا جائے گا کیونکہ درمیان میں بہت فاصلہ ہے تو مشرقی بنگال کے مسلمانوں نے زور دیا کہ مسلمانوںکی ایک ہی ریاست ہونی چاہیے صرف اور صرف پاکستان۔
بلا آخر 14اگست 1947ء کو پاکستان دوٹکڑوں میں معرض وجود میں آگیا ۔مشرقی پاکستان اورمغربی پاکستان۔پاکستان کی ابتدائی کابینہ میں بنگال سے تعلق رکھنے والے رہنمائوں کو قانون، محنت، تعمیرات ، وزارت ِداخلہ ،تعلیم اور اطلاعات و نشریات جیسی اہم وزارتیں ملی۔ شاید اب وقت آچکا تھا کہ بنگال کے لوگوں کی محنت ،جانوں کے نظرانے اور ایک ملک کے حصول میں کامیابی کا صلہ ملنا تھا کہ ایک سال کے اندر ہی زبان کے مسئلے نے سر اُٹھا لیا۔قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی قومی زبان اردو کو قرار دے دیا۔ قائد اعظم نے اُردو کا انتخاب اس لیے کیا کہ اُردو نہ تو پنجاب کی زبان تھی،نہ سندھ کی ،نہ بنگال کی تاکہ لسانی تفریق سے بچاجاسکے۔لیکن اس انتخاب کی وجہ سے بنگال میں احتجاج میں شریک لوگ مارے گئے اور اُنہی کی یاد میں بنگال میں شہید مینار بھی بنااور یہیں سے مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے درمیان دراڑ آنا شروع ہوگئی۔کیونکہ بنگال کے لوگ چاہتے تھے کہ بنگال میںقومی زبان بنگالی ہونی چاہیے ۔ اگرقومی زبان اُردو ہوئی تو وہ لوگ نہ تو مقابلہ کے امتحانوں میں حصہ لے سکیں گے اور نہ ہی حکومتی ملازمتوں میں آگے آسکیں گے جسکی وجہ سے انکی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔
1970ء کے عام انتخابات میں مشرقی پاکستان کی عوامی لیگ نے اکثریت حاصل کی اور جنرل یحیٰی خان نے شیخ مجیب الرحمن کو حکومت سونپنے سے انکار کردیا۔کیونکہ مغربی پاکستان کے لوگ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی بنگالی ان پر حکومت کرے اور نہ بنگالی چاہتے تھے کہ تمام تر بڑے عہدے مغربی پاکستان میں رہیں۔1970ء کے عام انتخابات کے بعدعوامی لیگ کے رہنمائوں نے مشرقی پاکستان میں احتجاج کرنا شروع کردیے جس کے باعث ملک کے حالات بگڑ گئے تھے۔ جنرل یحیٰی خان نے مشرقی پاکستان میں حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے فوج مشرقی پاکستان میں بھیج دی تا کہ عوامی لیگ کے رہنمائوں کو روکا جا سکے جبکہ عوامی لیگ کے بہت سے رہنما انڈیا چلے گئے۔انڈیا نے پاکستان کی سیاسی صورتحال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے 3دسمبر 1971ء کو مشرقی پاکستان پر عوامی لیگ کے فوجی دستے "مُکتی بھئی" کی مدد سے حملہ کر دیا اور مغربی پاکستان کی ناقص پلاننگ کی وجہ سے پاکستانی فوج کو 16دسمبر 1971ء کو انڈیا کی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ اس لیے 16دسمبر پاکستان کی تاریخ کا سیاہ  ترین دن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ جب پاکستان کا ایک حصہ پاکستان سے الگ ہوا تھا۔

Comments

Popular Posts